قابل رحم قوم

و قا ر احمد ستی ا یکسپر یس نیو ز

لیں جناب اب تفصیلی فیصلہ بھی آگیا عدلیہ کااور اسکے ساتھ ساتھ ہمارے حکمرانوں کا بھی اور ساتھ ہی ہمارے مستقبل کا فیصلہ بھی ہمارے سامنے آچکا ہے شاید ہم سمجھ پائے ہوں یا نہیں؟غور کریں جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ان الفاظ پہ کہ قابل رحم ہے وہ قوم جو کسی مجرم کو ہیرو سمجھتی ہے اور قابل رحم ہے وہ قوم جو احترام کو اختیار کے ساتھ ناپتی ہے تھوڑی دیر کے لیے ان انشا پروازوں کی آوازوں سے اپنے کان ہٹا لیں جو آج ہمیں یہ باور کروانا چاہ رہے ہیں کہ عدلیہ کے فیصلوں میں شعر وشاعری سے سزا نہیں دی جاتی یہ کوئی سزا تو ہے بھی نہیں یہ وہ تلخ حقیقت ہے جو دہائیوں سے ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہے کہا تو جسٹس صاحب نے اور بھی بہت کچھ ہے اور وہ یقینا ایسا ہے جنہیں پڑھ کے ہم اپنی قسمت اور بے بسی دونوں کا ماتم ہی کر سکتے ہیں آپ زرا ان الفاظ پہ غور کریں اور خود فیصلہ کریں کہ آیا اب اس ملک میں سب سے قابل احترام وہ نہیں جو جتنا بڑا کرپٹ ہے جو جتنا بڑا چور اور ڈاکو ہے ان طبقات کی بات تو چھوڑ دیں جو صرف ہم پہ حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ سوال آپکا اور میرا ہے کہ ہم باحثیت مجموعی آج بھی ان نظریات پہ قائم ہیں، کیا ہم آج بھی یہی  سمجھتے ہیں کہ شرافت و ایمانداری کسی شخص کا تشخص ہوتا ہے نہ کہ دولت و ثروت ؟کیا آج ہمارے معاشرے میں ایمانداری صرف ایک حماقت بن کر نہیں رہ گئی کیا اس میں کوئی دو رائے ہو سکتی ہے کہ ہم جسکی لاٹھی اسکی بھینس کی مثل جتنا اختیا ر اسکا اتنا احترام کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں ،چاہے وہ اختیار اسنے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑ کے بھاری بوٹوں کی مدد سے ہی کیوں نہ حاصل کیا ہو۔

کیا ہم آج یہ جانتے ہوئے کہ فلاں شخص کی دولت کا ذریعہ غلط ہے اسکا سماجی بائیکاٹ کرتے ہیں کیا آج ہمارے اردگرد ہر دوسرا شخص وہ نہیں ہوتا جو دودھ میں ملاوٹ کرتا ہے ،جو کسی جائز کام کو کرنے کے لیے رشوت طلب کرتا ہے ،جو بنیادی ضروری چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، جو اشیاءدگنے داموں فروخت کرتا ہے ،جو ناجائز منافع خوری کرتا ہے، جو کم تولتا ہے، جو بجلی وگیس چوری کرتا ہے، جو اشیاءکو مارکیٹ سے غائب کر کے مصنوعی بحران پیدا کرتا ہے اور پھر انہیں بلیک کرتا ہے، جو سرعام ٹریفک قوانین کو توڑتا ہے غرض کسی بھی شعبے میں دیکھ لیں یہ خوشنما لبادوں میں ملبوس شیطان ہمارے اردگرد گردن اکڑائے چلتے ہیں اور ہماری صحت پہ کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

کیا ہم ایمان کے اس آخری درجے سے بھی محروم نہیں ہو چکے ہیں جس میں برائی کو برا سمجھا جاتا ہے کیا اب ہمارے ہاں مذہبی اقدار کو فرسودہ روایات اور نظریات نہیں سمجھا جاتاکیا اب ہمارے ہاں داڑھی دہشت گردی اور کلین شیو روشن خیالی کی علامت نہیں بن چکی مجھے نہیں لگتا کہ آپ ان میں سے کسی بھی بات کو رد کرسکتے ہیں آپ مجبورا ان ساری باتوں سے اتفاق کرنے پہ مجبور ہو جائیں گے اور یقینا  میر ی طرح آپ بھی ہمارے ان فکری تضادات پہ الجھتے ہوں گے ۔

اگر آپ یہ سب مانتے ہیں تو یہ بھی مان لیں کہ حکمراں عوام کا عکس ہوتے ہیں جیسے عوام ویسے حکمران کسی بے ایمان اور کرپٹ معا شرے میں فرشتے حکومت نہیں کیا کرتے اب اگر ہمارے نمائندے اپنے ذاتی مفاد ،چند دنوں کے اختیار اور محض چند حقیر ٹکوں کی خاطر اپنا ضمیر فروخت کرتے ہیں آئین وقانون کی دھجیاں اڑاتے ہوں اور اپنے ہی ہم وطنوں کی جیب پر ڈاکے ڈالتے ہوں تو آپ دل پر ہاتھ رکھ کے کہیں کہ کیا یہ انکا حق نہیں کیونکہ حکمران تو عوام کا عکس ہوتے ہیں جیسے عوام ویسے حکمران بلاشبہ ہم واقعی قابل رحم قوم بن چکے ہیں۔۔۔

 
 
 Image
Advertisements

About A.h.Aftab

Become an Idealist not an Realist, if you want to achieve Biger goal.. In Pakistan's Politics #ImranKhan is the Best Option.

Posted on May 12, 2012, in A.h.Aftab. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: