Category Archives: Umer ARJ

Muslim Hukamran Aur Ghair Muslim Riyaya..! By Umer Abdu-Rehman Janjua

 

 

Part 1

 

 

 

Part 2

By Umer Abdur Rehman:یہ دھرتی ماں جیسی

ء65 سال قبل ہماراپیارا وطن معرض وجود میں آیا۔ یہ وطن ہندئوں نے ہمیں پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا بلکہ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی لاکھوں قربانیاں دی گئیں۔ بہنوں کی عزتیں پامال ہوئی۔ یہاں تک بس نہیں بلکہ سکھوں نے زبردستی عورتوں کو اپنی بیویاں بنا لیا کیا آپ نے کبھی سوچا؟ آج اُن کی اُولاد جو ہندو یا سکھ ہیں جب وہ مندر میں جاتے ہیں تو ہماری مائوں کو اپنے باپ بھائی یا د نہ آتے ہوں گے ،جو ہجرت سے قبل غسل کرکے خوشبو لگا کر جمعہ کی تیاری کرکے مساجد کی طرف جاتے تھے ؟ ہمارے بزرگوں نے اس وطن کے لئے اس لیے قربانیاں دی تھی کہ ایک آزاد ریاست کا وجود عمل میں لایا جائے اور ہماری آنیوالی نسل ایک اسلامی معاشرے میں پروان چڑھے جہاں اسلام کا بھول بھالا ہو۔ ہندئوں کے رسم و رواج سے ہماری جان چھوٹے ۔لیکن اُنہیں کہاں معلوم تھا کہ جس نسل کے لئے وہ یہ سہانے خواب دیکھ رہے ہیں وہ اِن کے تمام خوابوں کو چکنا چور کر دیں گی۔۔۔افسوس کہ اتنا عرصہ بیت جانے کے بعد بھی ہم یہ طے نہیں کر پائے کہ قائداعظم محمد علی جناح اسلامی ملک چاہتے تھے یا سیکولر؟؟ پاکستان کی آبادی کا 55فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل جو کہ دنیا میں ایک مثال ہے کسی ملک کے بننے سنوارنے میں نوجوان طبقے کا ہاتھ ہمیشہ سے رہا ہے آج ہمارئے ہاں بھی تمام شعبوں میں الحمدللہ ہماری پہچان برقرار ہے اگر آپ دیکھیں تو سائنس و ٹیکنالوجی میں ہمارے نوجوان پوری دنیا میں مانے جاتے ہیںارفع کریم مرحوم کے بعد عثمان نے دنیا آئی ٹی میں ہمارا نام روشن کیا ۔دنیا بھر سے 15لاکھ بچوں میں ریاضی میں پہلی پوزیشن لینے والا ہونہار بچے کا تعلق بھی پاکستان سے ہے او  یا اے لیول کیطرف نظر ڈالی جائے تو علی معین نوازش اور عمیر احمد کے نام سرفہرست ہیںتعلیم کے لیے کام کرنے پر ملالہ یوسف زئی ہیں اسی طرح میڈیا میں بھی ہمارے نوجوان اپنا مقام بنا چکے ہیں کامران شاہد،شاہ زیب خانزادہ،عمر چیمہ،عاصمہ شیرازی ہو یا ماریہ ذوالفقار آسکر ایوارڈ میں دیکھا جائے تو شرمین عبید چنائے ہم جس شعبے میںبھی دیکھے الحمد للہ ہمارے نوجوان ایک عظیم مقام رکھتے ہیں اور پاکستان میں بھی بے پناہ وسائل ہیں ہم ایٹمی طاقت ہیں ڈاکٹر عبد القدیر اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند جیسے سا ئنسدان ہمارئے ملک میں ہیںایک سینئر صحافی نے بہت خوبصورت بات کی ہے ”ہم ہیں تو پاکستانی جب پاکستان انڈیا کا میچ ہو تو ہم ہیں پاکستانی پڑھنا ہم نے انگلینڈ میں ہے نوکری امریکہ میں کرنی ہے فلم انڈیا کی دیکھنی ہے مرنا مکہ میں ہو گا اور دفن مدینہ میں ہونا ہے” اگر اس بات کو غور سے دیکھا جائے تو یہ بات کڑوی ضرور لیکن سچی ہے ہمارے اندر یہ دوغلا پن کیوں ہے جس دھرتی نے ہمیں ایک نام دیا ایک پہچان دی تحفظ دیا تو ہم نے کیوں نہیں اس کا مان رکھا؟ اس وطن کی خدمت کے بجائے دوسروں کی خدمت کرنے میںلگ گئے اور اپنی تہذیب کو چھوڑ کر دوسروں کی تہذیب و ثقافت اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسلام کا قلعہ مانا جاتا ہے۔ لیکن  بد قسمتی سے یہاں اسلام کا نفاذ تو نہ ہو سکا اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں اسلام نافذ نہیں تو ہم اس دھرتی سے منہ موڑ لے یہاں اسلام کا نام لینے والے اور اس پر جان قر با ن کرنے والے کڑوروں دیوانے موجودہیں ۔
ایک واقعہ جو ایک سنیئر صحافی نے اپنے کالم میں ذکر کیا وہ لکھتے ہیںہندوستان ایک سیمینار میں گئے ہوئے تھے۔ان کا کہنا ہے کچھ دیر کا وقفہ ہوا تو میں ٹہلتا ٹہلتا ایک ریسٹورنٹ میں پہنچ گیا میں ایک ٹیبل پر بیٹھ گیا کائونٹر پر ایک لڑکی کھڑی ہوئی تھی میں نے چائے کا آرڈر دیا چائے آئی میں چائے پینے میں مصروف تھا تو ایک بوڑھی عورت میرے قریب آئی اور بولی بیٹا مجھے آپ پاکستانی لگتے ہو میں بولا ہاں ماں جی! میں پاکستانی ہو وہ بولیں کی کیا کرتے ہو ںمیں نے جواب دیا صحافی ہو اخبار کے لیے کام کرتے ہوں۔ بوڑھی عورت کا یہ سننا تھا کہ اُس کے چہرے میں خوشی کی لہر ڈور گئی جیسے برسوں بعد اسے اپنی کھوئی ہوئی کوئی چیز واپس مل گئی ہو میرے پاس بیٹھی اور بولی بیٹا میں اور میرا پورا خاندان مسلمان تھا ہم ہجرت کرکے پاکستان کی طرف رواں دواں تھے راستے میں سکھوں نے ہمارے قافلے پر حملہ کیا میرے سمیت کہیں لڑکیوں کو اغواء کرکے زبردستی ہم سے شادی رچالی آج میں مسلمان ہوں، میرے باطن سے 4 بیٹے اور 1 بیٹی ہے لیکن وہ سکھ ہیں میرے بیٹوں نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے اور یہ جو کائونٹر پر لڑکی ہے یہ میری بیٹی ہے اب اس نے مجھے اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے آپ جانتے ہو آج اگر میں زندہ اور میری جیسی ہزاروں عورتیں زندہ ہیں تو صرف اور صرف پاکستان کی وجہ سے زندہ ہیں۔جا کر پاکستانی نوجوانوں کو بتا دینا تم نہیں جانتے ہم کیسی کیسی صوبتیں برداشت کرتے ہیں ہم نے تو آزاد ملک میں سانس تک نہیں لیا۔ لیکن آج ہمارے بھائی وہاں بستے ہیں اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں اس لئے پاکستان کی قدر کرنا یہ پیغام پاکستانی نوجوانوں کے لئے میری طرف سے امانت ہے اس تحریر کے توسط سے پڑھنے والوں کیلئے ایک سوال چھوڑے جا رہا ہوں آج پوری دنیا میں بسنے والے ظلم سہنے والے مسلمان لیکن ظلم کرنے والے ہندئو، یہودی، عیسائی لیکن دہشتگرد پھر بھی مسلمان آخر کیوں؟ہم کیوں نہیں اس ملک کی قدر کرتے؟ اللہ کا شکر ادا کریںکہ ہم آزاد دھرتی میں سانس لے رہے ہیں دو ٹکوں کی خاطر اس دھرتی (ماں) کو چھوڑ کر دوسروں (اغیار) کی مدد کو چلے جانا کہاں کا انصاف ہے ۔ یہ دھرتی تو ماں جیسی ہے اگر ماں آپ کو وقت پر کھانا نہ دیں تو کیا آپ دوسری ماں کی تلاش میں نکل جاتے ہیں نہیں نہ! تو اس ماں کے ساتھ ایسا ظلم کیوں ؟ج ضرورت اس امر کی ہے قائداعظم کے فرمان ‘ایمان۔ اتحاد۔ تنظیم” پر عمل پیرا ہو اس دھرتی کو خوبصورت سے خوبصورت ترین بنانے کیلئے کوشش کریں اور اُن مسلمانوں کو مایوس نہ کریں جن کی نظریں آپ پر ہیں اس دھرتی ہی نے عامرچیمہ شہید ، راشد منہاس،عزیز بھٹی ور ان جیسے کہیں غیور اور نڈر نوجوان پیدا کیے اور اُن بزرگوں کی روحوں کو چین پہنچائیں جنہوں نے اس وطن کیلئے قربانیاں دی

%d bloggers like this: