Blog Archives

60th Salgira-Baki MandaMulki Salmiat K Liye: By Hafeez Ullah Niyazi

Advertisements

Shukriya Imran Khan……! : Ansaar Abbasi

Hosh Main Aao…..! By Hassani Nisar

Part 1

Part 2

Part 3

Last Part

Shehbaz Aur Chiryan ..! :By Hassan Nisar

By Kanwal Akbar !…اپنے حصے کا چراغ

 

Imageکنول اکبر

میں پاکستان کی وہ بیٹی ہوں جو اس طبقے سے تعلق رکھتی ہے جسکے آ با ﺅاجداد جب پاکستان           آ ئیں تھے تو اپنے ساتھ دولت، علم، دانشوری، تہذیب اور تمدن بھی لائے تھے یہ وہ طبقہ تھا جس نے تقسیم ہندوستان کے وقت اپنی جائیدادیں ، اولادیں، والدین، رشتے دار ، اور کاروبار صرف اس لئے چھوڑ دیے تھے کے وہ ایک ایسے ملک کی فضا میں سانس لے سکیں جس میں انکو ہر چیز کی آزادی ہو- انکو دین پر چلنے سے کوئی نہ روک سکے، جہاں بھائی چارگی کے رشتے ہوں- جہاں کوئی ان پر ظلم نہ کر سکے- وہ پاکستان کو بہت آگے دیکھنا چاہتے تھے- اور یہی وہ خواب تھا جس نے انکو اپنا سب کچھ قربان کرنے پر مجبور کردیا- انھوں نے پاکستان بنانے سے لے کر پاکستان سجانے تک اپنا کردار ادا کیا- جی ہاں میں پاکستان کی وہ بیٹی ہوں جو ایک ایسے طبقے سے تعلق رکھتی ہے جس کو آپ چاہیں تو اردو بولنے والا کہہ لیں یا مہاجر- جی ہاں وہی بدنصیب بیٹی جس کی شناخت پر پاکستان بننے سے اب تک بہت سیاست ہوئی- مگر اس نے زبان نہ کھولی – اگر آج میں نے قلم اٹھایا ہے تو شکوے شکایات کے لئے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کو ان بہروپیوں کی اصل شکل دکھانے کے لئے جو ہم میں گھس بیٹھے ہیں- ہم یعنی نوجوان نسل اپنے آ با ﺅ  اجداد کی سب باتوں سے آج نا واقف ہے. اگر تھوڑا ماضی میں جائیں تو آپکو پتا لگے گا کہ لوگ ہمارے بارے میں یہ کہتے تھے کے یہ لوگ لڑتے نہیں ہیں اگر انکو گالی بھی دو تو یہ دروازہ بند کر لیتے ہیں- اس سے مراد یہ نہیں تھی کے ہمارے آ با ﺅ  اجداد بزدل تھے یا ڈرپوک تھے- نہیں ہرگز نہیں- بلکہ وہ اس پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے تھے جو جاہلوں اور گالیاں دینے والوں سے راستہ بدل لیتے تھے- ذرا پوچھو اپنے  بڑ وں سے کہ اردو بولنے والے ہر شعبہ تعلیم میں آگے تھے- ہر طبقے میں سب سے ذہین سمجھے جاتے تھے- کیوں کے تعلیم انکا زیور تھی- وہ ہر مناسب اورنا مناسب حالات میں تعلیم جاری رکھتے تھے- وہ تجارت کے چمپین تھے، کامیاب تعلیم یافتہ بزنس مین تھے- کلاسوں میں سب سے اچھے اسٹوڈنٹس تھے- میں آج یہ ماضی اس لئے دہرارہی ہوں کے ہم اپنا تجزیہ کر سکیں اور اپنے حال پر نظر ڈالیں کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں؟ جی ہاں آج ہم اس جگہ کھڑے ہیں جہاں ہم نے وہ نقصان کیا ہے جو شاید تقسیم ہند کے وقت بھی نہیں کیا تھا- اس وقت ہم نے اپنی جائیدادیں، کاروبار، رشتے دار کھوئے تھے مگر آج ہم اپنی تہذیب، اپنا تمدن، اپنی پہچان، اپنا نام، اپنا وقار، اپنی آواز، اپنی متانت اور اپنی عزت تک کھو چکے ہیں- جی ہاں ہماری نسلیں برباد ہوچکیں- ہم پر لسانیت کی چھاپ لگانے والے، ہم پر سیاست کرنے والے آج ہمیں اس موڑپر لے آئے ہیں جہاں سے آگے ایک گہری کھائی ہے اور اسکے آگے کوئی راستہ نہیں- ہماری نسلیں برباد کر دی گئیں ہیں ہمارے نو جوان جو کبھی ذہانت اور متانت کا پیکر تھے ان پر اب دہشت گرد کی چھاپ لگ چکی- وہ انہی اسکولوں سے جن سے کبھی وہ ڈاکٹر اور ا نجئنر بن کر نکلتے تھے اب دہشت گرد ،ڈاکو اور بدمعاش بن کر نکلتے ہیں- نظر دوڑائے اپنے ارد گرد اور سمجھنے کی کوشش کیجیے کے ہمیں حقوق دلوانے کا دعوا کرنے والوں نے ہمیں کون سے حقوق دلائیں ہیں- نوکریاں دلوانے نکلے تھے اور آج ہمیں اس قبل بھی نہیں چھوڑا کے ہم نوکریاں کر سکیں- ہم اپنے راستے کھو بیٹھے ہیں-
ہمارے نوجوان تعلیم اور شعور سے عاری ہوچکے ہیں- ہمارے نام پر سیاست کرنے والوں نے ہمارے ہی ملک کے جھنڈے تلے ہماری شناخت چھین کر ہمیں بے سہا رارا کردیا ہے. جن لوگوں سے ہمیں پاکستانی ہونے کے ناطے بھائی چارگی کرنی تھی ان سب سے لڑوایا جاتا ہے ان سے الگ کیا جاتا ہے تاکہ ہم اس خوف سے سمٹے رہیں کہ ہمارا اپنا کوئی نہیں ہم سب سے الگ ہیں- میں یہ مانتی ہوں ہم سے نا انصافی ہوتی رہی، ہم پر ظلم ہو ئے لیکن کیا اس ناانصافی کا یہ تقاضا تھا کہ ہم اپنا ہی باغ اجاڑ بیٹھیں- آج ہم اپنی ہی کھیتی اجاڑ بیٹھے ہیں
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ہم پر لسانیت کی سیاست کرنے والوں نے ہمیں کیا دیا میں بتاتی ہوں – ہمارے اسکول ویران کردیے ، ہمارے معاش چھین لئے، ہماری شناخت چھین لی، ہمارے نو جوان قلم کی جگہ کلاشنکوف اٹھانے لگے ،جس منہ سے کبھی گالی نہیں نکلی اب وہ گٹکا پان اور چھالیہ کھا کھا کر مر رہے ہیں. ہمیں چلتی سڑک پر مار دیا جاتا ہے اور ہمیں یہ نہیں پتا ہوتا کے ہمیں اپنا کہنے والوں نے مارا ہے یا کسی اور نے- ہمارے گھر پر جھنڈا لگا کر اور ہماری لاش کو سیاست کے جھنڈے میں لپیٹ کر دفنا دیا جاتا ہے تا کہ انکی سیاست کے کچھ مزید پوانٹس بڑھ جائیں. ہم چاہے کتنی آنکھیں بند کریں ہم پر بھتہ خوری، ڈاکے، قتل، قبضہ مافیا، ٹارگٹ کلرز، بوری بند لاشوں کا سیاہ دھبہ لگ چکا ہے۔
کوئی کیسی بھی دلیل دے مگر میں سوال اٹھاتی ہوں ہم پر سیاست کرنے والوں سے کہ بیس بیس سال سے ہمارے نام پر تم لوگوں نے سیاست کی ہے اور حکمرانی کے مزے لوٹے ہیں – ہم پر کوئی سندھی، پنجابی، پٹھان، اور کسی بھی قوم کا کوئی فرد حکومت نہیں کر رہا تھا تو آج ہم نو جوان پستی کا شکار کیوں ہیں ؟ ہماری تعلیم ، ہمارے اسکول، یونیورسٹیوں میں ہماری حالت خستہ کیوں ہے. تم نے تو ہمیں ترقی دلانی تھی ، اسکول بنانے تھے اجاڑ ے کیوں ؟ تم نے تو نو جوانوں کو آگے لے جانا تھا انکو لڑوایا کیوں؟ تم نے اپنے دور میں کتنی تعلیم کو فروغ دیا؟ اتنا کے میرے نوجوان آج اسکولوں میں نقل کے لئے لڑتے پھرتے ہیں- ایک دوسرے کے دشمن ہیں- تم ہی ہو جس نے ہماری نسلوں کو برباد کر کے ہمارے ساتھ وہ کیا ہے جو شاید کوئی دشمنی میں صدیوں میں کر پاتا- میں نہیں جانتی دوسرے طبقے کیا تھے انہوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟ مگر میں اتنا جانتی ہوں یہ ہم نہیں تھے جو تم نے ہمیں بنادیا- کیا سڑکیں ، پل، اور بڑی بڑی عمارتیں ترقی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں ؟ نہیں- نہیں- ہرگز نہیں- ترقی کا پیش خیمہ تو نو جوان نسل کی تربیت ہوتی ہے- خدایا میرے بہن بھائیو دیکھو ہمیں کس نے لوٹا ہے، ہمیں کس نے رسوا کیا ہے؟ میں نے آج یہ قلم صرف اس وجہ سے اٹھایا ہے کے میں خود کو آئینہ دکھا سکوں- بہت الزام دے دیا ہم نے دوسروں کو اب اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا- میں آج اپنے حصے کا دیا جلا رہی ہوں اور انکار کرتی ہوں ہر اس سیاسی شخصیت سے جو پاکستان سے میری پہچان کو الگ کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ہمیں لسانیت کا سبق دیتی ہے- میں انکار کرتی ہوں تم لوگو کو اپنا حصہ بنانے سے- تم ہم میں سے نہیں ہو جو ہمیں مہاجر کہلوا کر خوش ہوتے ہو تا کہ تمہاری سیاست چمک سکے- میں آج آواز اٹھاتی ہوں تم وہ نہیں ہو- تم ہم میں سے نہیں ہو- تم ہمارے مسیحا نہیں ہمارے دشمن ہی- دشمن ہو- دشمن ہو۔

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں رکھتی طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

 
 
 
%d bloggers like this: